علی پور گھلواں
علی پور گھلواں کی مذہبی، سیاسی، اجتماعی اور ثقافتی جدوجہد کا آئینہ دار

بزرگ مردتاریخ

جستجو
مطالب اخیر
لوگو دوستان

 پایگاه مقاومت بسیج نصر
خانہ حدیث

گھلواں وبلاگ : ۱۸ مئی ۲۰۱۲ ء ۔ علی پور گھلواں کی ملت جعفریہ اپنے مذہبی اور سیاسی حقوق  کا تحفظ کرنا بہتر جانتی ہے یہ بات جعفریہ یوتھ گھلواں کے صدر عامر ملک نے مسجد شہید عارف الحسینی جتوئی چوک علی پور میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے یہ بات تمام مومنین سے صاف صاف  الفاظ میں کہی  کہ آپ کی طاقت کے زور پر یہاں کی تمام سیاسی قوتیں جیت جاتی ہیں لیکن آپ کے حقوق کیلئے کوئی بھی سیاسی لیڈر آپ کے ساتھ کھل کر ہمدردی یا آپ کے حقوق کا تحفظ نہیں کرتا ۔

عامر ملک نے کہا کہ یہاں ملت جعفریہ صرف ان کو اپنا ووٹ دے گی جو اس کے حقوق کا کھل کر دفاع کرے گا اس مرتبہ علی پور گھلواں  کے جو حالات پیدا کئے گئے ہیں اس میں ہمارے ساتھ کون کونسی سیاسی ہمدردیاں یا ہمارے مسائل کو حل کر نے میں مخلص نظر آئے وہ ہم سب پر کلئیر ہو گیا ہے ۔انہوں نے مزید کہا ہم سب ملی تنظیموں ،علماء کرام اور شیعہ اکابرین و بزرگان کے ساتھ مل کر اپنی سیاسی قوت کا حکمت کے ساتھ استعمال کریں گے ۔ انشاءاللہ

  یاد رہے کہ اس وقت تک علی پور کی سیاست میں جتوئی اور گوپانگ گروپ سٹرانگ  رہے ہیں لیکن اس دفعہ عبداللہ شاہ بخاری صاحب آف کانڈھ شریف بھی علی پور کے حلقہ ۱۸۰ سے پاکستان مسلم لیگ ن کی سیٹ پر کھڑے ہورہے ہیں جن کے ساتھ ایم پی اے کے امید وار چوہدری غلام حسین ارشد اور سید قائم علی شمسی ہیں  علی پور کی سیاست میں ان کے آ جانے سے ایک تیسری سیاسی قوت ابھر کر سامنے آئی ہے جس سے علی پور کی سیاسی صورت حال پر کافی اہم اثرات مرتب ہونگے جب کہ پی پی پی کی صورت حال کافی کمزور ہو چکی ہے لیکن ایک امید ان کو بھی نظر آ رہی ہے کہ اگر ق لیگ کے ساتھ پی پی پی کی سیٹ کا ایڈجسٹمنٹ کمپرومائز ہو جاتا ہے تو پھر سید عبداللہ شاہ بخاری کیلئے مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔

 فی الحال مسلم لیگ ن کے امید وار مضبوط ہیں جس کی وجہ سے پی پی پی کے سردار  قیوم خان جتوئی نے پی ایم گیلانی کو علی پور سے الیکشن لڑنے کی دعوت دی تھی جب وہ سوئی گیس کا سنگ بنیاد رکھنے علی پور تشریف لائے تھے ۔ق لیگ کے صدر سردار عاشق حسین خان گوپانگ کے ساتھ ان کے بیٹے عامر طلال خان گوپانگ اور میر  سیدافضال مصطفیٰ ایم پی اے کے امیدوار ہیں ۔ لیکن جو سب سے اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ اس وقت علی پور گھلواں کی گھلو برادری اور شیعہ مذہبی سیاسی تنظیموں نے کسی کے ساتھ الحاق نہیں کیا ہے وہ جس سائیڈ پر بھی جائیں گے اس کی جیت کے چانسز کہیں زیادہ ہوجائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو بھی ان کے مذہبی و سیاسی حقوق کا دفاع کرے گا اس کے ساتھ برابری کی سطح پر الحاق ہو گا ۔

نوشته شده در جمعه 29 اردیبهشت 1391 توسط علی پور گھلواں

 

گھلواں وبلاگ : ۱۱ مئی ۲۰۱۲ ء ۔مجھے ٣٠ستمبر ١٩٨٨کربلا عصر کا وہ دن یاد ہے جب ڈیرہ اسماعیل خان کی جرأت مند اور اسوہ زینبی پر عمل پیرا مائیں اپنے ننھے اور جوان بیٹوں کو صبح سویرے نمم آنکھوں کے ساتھ ان کے بالوں میں کنگھی کرتے ہوئے نصیحت کر رہی تھیں کہ آپ میں سے کسی ایک کے بھی زندہ ہوتے ہوئے ملک بھر سے آئے ہوئے ہمارے مہمان مومنین میں سے کوئی بھی پہلے شہید نہ ہونے پائے۔ایک سال سے حکومت کی طرف سے روکا گیا عا شورہ کا جلوس اس وقت قائد شہید عارف حسین  کے بعد منتخب ہونے والی قیادت کے حکم پر پورے ملک سے مومنین ڈیرہ پہنچ کر جلوس کو اس کی منزل تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے۔اس جلوس کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں مومنین انتظامیہ اور آرمی کی ناکہ بندی کے باوجود دریائے سندھ کو عبور کر کے جلوس میں شریک ہوئے۔گرفتاریاں اور شہادتیں ان کے پائے استقلال میں لغزش نہ لاسکیں۔

اس میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستانِِِ،پاسبان اسلام اور امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مقامی و ملکی عہدیداران اور کارکن اور مومنین شریک تھے۔یہ بات قابل ستائش اور دیدنی تھی کہ مومنین یہ جانتے تھے کہ جو بھی علم عباس علمدار  ہاتھون میں لے کر آرمی کی لگائی ہوئی لائن کو عبور کرتا ہے وہ گولیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔اس کے باوجود بھی سب ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں کوشاں تھے۔جو لوگ وہاں موجود تھے وہ آج بھی بتاتے ہیں

کہ وہ دن کربلا میں عاشورہ کے دن جیسا تھا۔ایک طرف تو گلوں کو خوشک کرتی ہوئی سورج کی تپتی دھوپ ،تنگ گلیوں اور چھتوں سے آتی ہوئی چیخ و پکار اور یاحسین کے شعار کی بلند ہوتی صدائیں تو دوسری طرف اس وقت  گمراہ حاکم کے حکم پر عمل پیراہ انتظامیہ جذبہ شہادت سے سر شار جوانوں کی ماتمی صفوں کو شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی اور ان کے تنظیمی ساتھی منظم کر رہے تھے۔اس وقت یہ نوحہ پڑھا جارہاتھا جو بعد میں پورے ملک میں مشہور ہوا اور وہ شاعر نوحہ خواں اپنا وہی نوحہ جلوس میں پڑھتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔

                      مٹنے کبھی نہ دئیں گے شبیرتیرا ماتم

             جب تک ہے خوں رگوں میں جب تک ہے دم میں دم   علی حق

یقیناً اس وقت یہ سب اثرات تھے ہماری ملت میں کر بلا سے حقیقی درس لینے اور قائدین کے ان فرامین سے جو انھوں نے اس وقت فرمائے تھے جیسے ''عزاداری ہماری میراث ہے جو ہماری ماؤں نے ہمیں اپنے دودھ میں پلائی ہے''

                                            قائد شہید عارف الحسینی

''ہم کشتیاں جلا کر نہیں بلکہ چراغ بجھا کر چلنے والے ہیں''

                             قائد ملت علامہ ساجد علی نقوی

یہ ساری منظر کشی کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ٢٠٠٧ سے  لیکر اج تک اسی ڈیرہ اسماعیل خان کی سرزمین پر شہدا کا ایک نیا قبرستان بنا دیا گیا ہے ایسے درد ناک واقعات بھی ہوئے ہیں کہ ایک ہی خاندان کے سب مرد قتل کردیے گئے اور ان کے گھر سے جنازے اٹھانے والا کوئی نہیں بچا۔ااور اسی طرح کوئٹہ،کراچی،خیر پورمیرس،خان پور،علی پور،جھنگ،گلگت اور سکردو ،پاراچنار میں کئی دلخراش واقعات تسلسل سے ہورہے ہیں۔

تو ان پر اتنا خاموشی اور جمود کیوں اور کوئی مضبوط اقدام کسی بھی عنوان اور نہج پر کیوں نہیں لیا جارہا۔کیا آج کی لیڈر شپ اور خود ملت جعفریہ ٢٥ سال پہلے سے زیادہ آگاہ،معاملہ مہم اور پختہ فکر نہیں ہے؟۔بہت سارے قانونی،سیاسی،علمی اور فکری اقدامات سے ملت کو عزت مندانہ راہ پہ گامزن کیا جاسکے۔اب بھی کوئی دیر نہیں ہوئی مایوسی کفر ہے اور ہم آج بھی پر امید ہیں اور کچھ احباب کہتے ہیں کہ ١٩٩٥کے بعد جو اختلافات قوم میں ڈالے گئے وہ آج بھی در پر دہ رکاوٹ ہیں اور کسی حد تک درست بھی ہیں کہ ہمارے مومنین آج تک آپس میں نفرت اور بد اعتمادی کا کھلم کھلا اظہار کرتے ہیں ۔ان اختلافات کی وجہ بننے والے افراد چاہے وہ ہماری ملت کے کسی حلقہ کے اندر دلوں کی دھڑکن اور محبوب کیوں نہ ہو۔ان کو ملت کے باشعور اور آج کے حالات کے تقا ضون کو شمجھنے والے کبھی معاف نہیں کریں گے۔اور نہ ہی ان کو جو مستقبل میں بھی اختلافات کی بات کریں گے۔ہمارے درمیان جو بھی ملی وحدت کو پارہ کرنے کی بات کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے اور اس پر رہبر معظم کا واضح فرمان بھی موجود ہے۔''ملت کا ہر فرد ہمارے لئے اہم اور مقدرہے ''اور کسی بھی شخص کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ پانچ کروڑ لوگوں کی زندگیوں اور حقوق کو اپنی کم ظرف سوچ یا ذاتی انا کی بھینٹ چڑھائیں۔سب اچھی طرح جانتے ہیں کی ان مسائل کی وجہ سے تمام ملی تنظیمی کے اندر اخلاقی و تربیتی ،تعلیمی و تنظیمی اور فکری طور پر مرحلہ وار کمی واقع ہوئی ہے۔''آج کی ہماری مظلومیت کی عکاسی قائد شہید  کا یہ فرمان کررہا ہے'' آ ج جو ہمارے حقوق ہم سے چھینے جارہے ہیں یا تو ہم جاہل ہیں اگر علم رکھتے ہیں تو پھر تقوی نہیں رکھتے''۔آپس کی نفرتوں کو نکا ل باہر کیجئے سب کو ساتھ ملائیے،ملت کے وسیع تر مفادات کی خاطر ملت کے تمام بزرگان ،علمائے کرام،عمائدین عظام،زعمأو خطبأ حضرات ،آئمہ جمعہ،محترم ذاکرین اور تمام تنظیموں کے اعلی عہدہ داران اپنے اپنے حلقہ اثر میں واضح ہدایات جاری کریں کہ تمام تر اختلافات کو بھلا کر ایک دوسرے کے پروگراموں میں خلوص دل سے شریک ہوں کیونکہ درد مندی کے اصولوں میں سے خلوص وا حترام اہم ہیںایسا نہ ہو کہ ایک ہاتھ میں پانی کی بالٹی تو دوسرے ہاتھ میں پیٹرول اٹھایا ہوا ہو۔پورے ملک میں ملت کے اندر سانحہ کوہستان اور دیگر شہدا کے پاک خون کی برکت سے ایک تحرک پیدا ہو چکا ہے اور قوم کی اہم شخصیات بھی وحدت کا عملی ثبوت پیش کرتی نظر آرہی ہیں۔اس میں فی الوقت کوئی مشکل نہیں ہے کہ سب لوگ اپنے اپنے پلیٹ فام سے ملت کی خدمت کریں اور مشترکہ قومی مقاصد کے حصول کے لیئے متحد ہو جائیں اور باہمی احترام کا بھی خیال رکھیں۔ سب سے زیادہ جس چیز کی ملت کو اشد ضرورت ہے وہ آپس میں اعتما د کا ہونا ہے جو کہ ایک دوسرے کے پاس بار بار آنے جانے سے پید ا ہوگا۔اس مرحلے میں مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ بہت سارے قوم کے نام نہاد خیرخواہوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھے گا۔لیکن ہم سب ان کے لیئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ان کے بند اذھان کو آج کے حالات کے مطابق وسعت دے۔آمین یا رب العالمین۔

                                                                   والسلام۔۔۔۔ملک ممتاز علی گھلو

نوشته شده در جمعه 22 اردیبهشت 1391 توسط علی پور گھلواں

   

گھلواں وبلاگ : ۵ مئی ۲۰۱۲ ء میں علی پور گھلواں کے جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے حق کے راستے میں آنے والی تمام مشکلات کا جرات کے ساتھ مقابلہ کیا ،یہ بات شیعہ علماء کونسل پنجاب کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری سردار کاظم علی حیدری نے گھلواں وبلاگ کے نمائندے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے جیل میں کہی ۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم سب حسینی ہیں اور ہمیں کوئی طاقت حق کے راستے سے نہیں ہٹا سکتی ۔ سیاسی حوالے سے جب ان سے پوچھا گیا کہ علی پور میں کس پارٹی کے ساتھ الحاق کیا جائے تو انہوں نے کہا کہ ایزِ تنظیم کسی کے ساتھ الحاق نہ کیا جائے وہ جیسا مرکزی قیادت حکم دے گی ویسا ہو گا۔ باقی مقامی سطح پر تمام تنظیمی دوست، علماء کرام ، اور ملت کا درد رکھنے والا ہر شخص پورے ڈسٹرکٹ مظفر گڑھ میں ملی وحدت کے ساتھ دورہ جات کریں اور ملت جعفریہ کو آگاہی اور شعور دیں کہ جو پارٹی بھی اب ہمارے حقوق کا کھل کر دفاع کرے گی ہم اس کو ووٹ دیں گے؛ خان صاحب نے ملی وحدت پر بہت زور دیا ہے ۔ 



نوشته شده در شنبه 16 اردیبهشت 1391 توسط علی پور گھلواں


گھلواں وبلاگ : ۲۳ اپریل ۲۰۱۲ ء نمائندے کی رپورٹ کے مطابق آج سردار کاظم علی حیدری اور ان کے دیگر ساتھی ساجد حسین کی پیشی تھی آج کی سماعت کے بعد جج نے پرسوں بروز بدھ ۲۵ اپریل کی دوبارہ پیشی دے دی۔   



نوشته شده در دوشنبه 4 اردیبهشت 1391 توسط علی پور گھلواں

گھلواں وبلاگ : ۲۳ اپریل ۲۰۱۲ ء علی پور کی مشہور دینی درسگاہ مدرسہ دارالہدیٰ محمدیہ کے پرنسپل کی ذمہ داری حجۃ الاسلام مولانا سید قلب حسین نقوی نے سنبھال لی ہے مولانا صاحب ایک محنتی ،مخلص اور ممتاز علمی شخصیت ہیں اور ان کا قم المقدسہ میں بھی ان طلباء میں شمار ہوتا ہے جو محنتی اور قابل سمجھے جاتے ہیں ۔

  آپ کا تعلق سرگودھا سے ہے اور جامعۃ المنتظر لاہور میں بھی اپنی خدمات پیش کر چکے ہیں ۔ علی پور گھلواں کے مومنین بھی کافی پر امید ہیں کہ وہ یہاں پر اپنی قابلیت  سے علاقے میں بھر پور فرائض سرانجام دیں گے۔ انشا اللہ

   آج حجۃ الاسلام مولانا سید قلب نقوی صاحب، مولانا طالب حسین جعفری کے ہمراہ ملک ظفر علی گھلو اور سید بدر عباس نقوی کے ہاں تعزیت کیلئے تشریف لے گئے۔ 

نوشته شده در دوشنبه 4 اردیبهشت 1391 توسط علی پور گھلواں

گھلواں وبلاگ : ۲۱ اپریل ۲۰۱۲ ء علامہ سید محمد تقی نقوی صاحب نے گھلواں مرکزی امام بارگاہ میں ملک ظفر علی گھلو کی والدہ مرحومہ کے ایصالِ ثواب کی مجلس عزاء سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ: معصومین علیہم السلام خلقت کائنات سے کئی سو سال پہلے  تخلیق کئے گئے اور وہ آرام و سکون کے ماحول سے مصائب و دکھوں کی زندگی میں انسانیت کو ہدایت اور نسخہ نجات دینے کیلئے آئے اور خالق کائنات خداوند متعال کی معرفت سیکھانے اور اس کی قربت حاصل کرنے کیلئے عملی نمونے پیش کئے۔ اس کیلئے معصومین علیہم السلام اور اولاد معصومین ع کو کئی مشکلات و مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔

  علامہ صاحب کا فرمانا تھا کہ  اس لئے ہمیں معصومین علیہم السلام کی مظلومیت کو یاد  کرتے ہوئے پرسہ دینے کے ساتھ ساتھ معصومین ع کے مقاصد کو سمجھتے ہوئے ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اگر ہمیں بھی آج کے وقت میں مشکلات اور امتحانات کا سامنا کرنا پڑ جائے تو ہمیں معصومین ع کے اسوہ کا درس لیتے ہوئے ان مشکلات کو جرات اور صبر اور شکر کے ساتھ برداشت کرنا چاہیے ۔

  مجلس  عزاء میں اُوچ شریف ،سیت پور ،جتوئی ،شہر سلطان اور علی پور گھلواں سے کثیر تعداد میں تمام طبقائے زندگی کے لوگوں نے شرکت کی۔

  خطاب کرنے سے پہلے  علامہ سید محمد تقی نقوی  صاحب، ملک ظفر علی گھلو  کے گھر تشریف فرما ہوئے  وہاں پہ دعا فرمائی  اور علی پور گھلواں کی مذہبی و سیاسی  صورت حال پر جعفریہ یوتھ کے دوستوں سے بھی گفتگو فرمائی۔ اس موقع پر ملک مرتضیٰ گھلو ،اصفان حیدر ، عیان حیدر اور ملک منعم علی گھلو بھی موجود تھے۔

نوشته شده در یکشنبه 3 اردیبهشت 1391 توسط علی پور گھلواں


گھلواں وبلاگ : ۱۶ اپریل ۲۰۱۲ ء نمائندے کی رپورٹ کے مطابق ہائی کورٹ ملتان میں آج مرد مجاہدسردار کاظم علی حیدری اور ان کے دیگر ساتھی ساجد حسین کی پیشی تھی ۔ جج صاحب کی عدم موجودگی کی وجہ سے کیس کی سماعت نہ ہو سکی لہذا ایک غیر معین مدت کی پیشی دے دی گئی ہے۔ 



نوشته شده در دوشنبه 28 فروردین 1391 توسط علی پور گھلواں


گھلواں وبلاگ : ۱۶ اپریل ۲۰۱۲ ء پروفیسر ممتاز ملک نے گھلواں وبلاگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ملت جعفریہ پاکستان کی طرف سے "شیعہ علماء کونسل" کی جانب سے مجلس وحدت مسلمین کو ۱۸ اپریل کی آل پاکستان علماء کانفرنس میں شرکت کی دعوت دینے اور مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے اسے دل سے قبول کرتے ہوئے شرکت کے علان کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔



نوشته شده در دوشنبه 28 فروردین 1391 توسط علی پور گھلواں

گھلواں وبلاگ : ۱۶ اپریل ۲۰۱۲ ء جعفریہ یوتھ تحصیل علی پور کے صدر سید خضر عباس کاظمی نے گھلواں وبلاگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے علماء کرام نے ہمیشہ احساس ذمہ داری کرتے ہوئے قوم کی رہنمائی کی ہے اور آج کے اس پر آشوب دور میں قوم علماء کرام کی رہنمائی کی منتظر ہے،اس ضمن میں قائد ملت جعفریہ حضرت علامہ سید ساجد علی نقوی کی طرف سے اعلان کردہ آل پاکستان علماء کانفرنس نہایت خوش آئند اقدام ہے۔

جعفریہ یوتھ تحصیل علی پور کے صدر نے کہا کہ تحصیل علی پور اور جتوئی سے علماء کرام ،خطباء عظام،مدارس دینیہ کے سربراہان،آئمہ جمعہ وجماعات اوردینی طلباء اپنی دینی اور شرعی ذمہ داری کو پورا کرتے ہوئے ١٨ اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والی کانفرنس میں بھرپور شرکت کریں گے تا کہ ہم کسی ایک مشخص خط پر چل کر اپنے حقوق کادفاع کرسکیں ۔



نوشته شده در دوشنبه 28 فروردین 1391 توسط علی پور گھلواں



السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے اور اسلام و پاکستان کو درپیش مسائل و مشکلات کے حل کے لیے اپنی حتی المقدور کاوشیں انجام دے رہے ہوں گے۔ 
7 اپریل کو روزنامہ جنگ میں ’’64 سال مزید نہیں‘‘ کے عنوان سے آپ کا کالم زیر مطالعہ آیا تو مسرت ہوئی کہ آپ نے جس انداز سے گلگت بلتستان کے غیور عوام کی مظلومیت، پاکستان سے محبت، نظریہ پاکستان سے قلبی وابستگی، اسلام سے والہانہ عقیدت، امن و اخوت کے لیے مثالی ماحول اور ان پر ہونے والی بیرونی جارحیت و مداخلت کی عکاسی کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ گلگت بلتستان کی جغرافیائی حیثیت، خطے میں حساس پوزیشن، پاکستان میں اس علاقے کی اہمیت، ڈوگرہ راج سے آزادی کے بعد 64 سال گذرنے اور پاکستان کے شہری ہونے کے باوجود آئینی و قانونی و سیاسی حقوق کی عدم فراہمی پر بھی آپ نے تجربہ کار اور آگاہ کالم نگار کی حیثیت سے روشنی ڈالی۔

اس کے بعد موجودہ حالات میں گلگت بلتستان کے عوام کو فرقہ پرستوں، جنونیوں اور مذہبی انتہا پسندوں کے ہاتھوں پہنچنے والے نقصانات اور مستقبل میں نظر آنے والے خطرات کے حوالے سے بھی آپ کا تجزیہ قابل غور اور علاقے کے عوام کی فکر اور خواہش کے مطابق تھا۔ آپ کی جامع تحریر کے بعد ایک صاحب الرائے اور آگاہ قاری کی حیثیت سے ہمیں یقین تھا کہ جس طبقے کو آپ نے حق سنایا ہے اور حقیقت سے آگاہ کیا ہے وہ آپ کو اس حق گوئی کی سزا ضرور دے گا، کیونکہ اس طبقے کا وطیرہ گالم گلوچ سے لے کر انسانیت میں پست ترین انداز یعنی قتل کا ارتکاب رہتا ہے۔

گذشتہ روز 15 اپریل کو ’’مظلوم کا ظلم‘‘ کے عنوان سے ایک بار پھر آپ کے کالم کا مطالعہ کیا ہے تو حیرتوں کی انتہا نہ رہی کہ آپ کو کس کوفت، تکلیف، پریشانی اور رنج میں مبتلا کر دیا گیا؟؟ مجھے پاکستان بھر سے آپ کے مستقل قارئین اور میرے مستقل ذاتی و تنظیمی دوستوں نے ان دونوں کالموں کے بارے میں اپنے جذبات و خیالات اور رائے سے آگاہ کیا۔ میں نے اپنے ناقص فہم کے ذریعے اور پاکستان بھر سے بہت سارے دوستوں سے مشاورت کے بعد تجزیہ کیا ہے کہ اس تمام خبث میں مظلوموں کا حامی کوئی طبقہ یا براہ راست مظلوم ملوث نہیں ہو سکتے، کیونکہ آپ کے کالم میں اشارتاً یا کنایتاً بھی مظلوموں کے خلاف کسی قسم کی بات نہیں تھی۔

آپ کو موبائل پر پیغامات یا کالز کے ذریعے پریشان و ہراساں کرنے والا طبقہ یقیناً وہی ہو سکتا ہے جسے آپ نے حق سنایا ہے۔ طاہر اشرفی کا احتجاج ہمیں واضح طور پر سمجھ آتا ہے، کیونکہ موصوف کا تعلق فرقہ پرست گروہوں اور ان کے خلق کرنے والی قوقوں کے ساتھ ہے۔ ان دنوں دفاع پاکستان کونسل میں موصوف انہی قوتوں کی ہی نمائندگی کر رہے ہیں۔ طاہر اشرفی کے احتجاج کے بعد آپ پر موبائل مسیج اور ٹیلی فون کالز کی یلغار مظلوموں نہیں بلکہ ظالموں کا ایک نیا انداز ہے، جسے آپ بھی درک کر چکے ہوں گے۔

شیعہ مکتب کی قیادت اور علمائے کرام کے انداز تکلم اور پیرایہ گفتگو سے آپ بخوبی آگاہ ہیں۔ بالخصوص شیعہ علماء کونسل کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی کے تدبر، بصیرت، سیاسی بالغ نظری، عالم اسلام کے مسائل پر گہری نظر، پاکستان میں اتحاد بین المسلمین کے لیے مساعی، لاشوں پر کھڑے ہو کر وحدت امت کا درس اور گلگت سے کراچی اور پارا چنار سے کوئٹہ تک شیعہ کمیونٹی کے قتل عام کے باوجود گالی اور گولی کا راستہ اختیار نہ کرنا بلکہ جمہوری، سیاسی، پرامن اور اسلامی انداز سے جدوجہد اور احتجاج کرنا ان کا طرہ امتیاز ہے۔ اس انداز کار کی وجہ سے شیعہ مسلک کے جذباتی گروہ اکثر ان کے خلاف اپنے ہمہ قسم جذبات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے پیروکاروں کو اپنے ہم مسلکوں و ہم مکتبوں کے قتل پر صبر کرنا تو سکھایا ہے لیکن گالی اور گولی کا سبق کبھی نہیں دیا، بلکہ اس کی نفی اور مذمت کی ہے۔ جب انہیں گذشتہ روز آپ کے کالم میں شائع ہونے والے آپ کے حالات کا علم ہوا تو انہوں نے بہت افسوس اور میرے ذریعے آپ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

اس خط کے ذریعے میں آپ کو اپنی قیادت اور اپنی کیمونٹی کی طرف سے یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس قسم کے کسی انداز گفتگو یا انداز احتجاج پر یقین نہیں رکھتے جو آپ کے ساتھ اختیار کیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ شیعہ مکتب فکر کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں، بے عدلیوں، مظالم، زیادتیوں اور قتل عام کے بارے میں پاکستانی میڈیا اپنی ذمہ داریاں کما حقہ ادا نہیں کر رہا، لیکن جس طرح آپ نے حق گوئی کا مظاہرہ کیا ہے اگر میڈیا سے وابستہ تمام لوگ اسی طرح حقیقت اور حقائق کو بیان کرتے رہیں تو ذمہ دار ادارے اور قوتیں بھی شاید متوجہ اور مجبور ہو جائیں گی۔ ہم اہل صحافت کی تمام ذاتی، پیشہ وارانہ اور اجتماعی مجبوریوں سے آگاہ ہیں، اس لئے آپ سے اتنی ہی توقع رکھتے ہیں جتنی ایک صاحب بصیرت اور آگاہ انسان رکھ سکتا ہے۔ اگر مقتدر حلقے، عدلیہ، فوج اور ریاستی ادارے سب کچھ جانتے ہوئے ہمیں تحفظ نہیں دے سکتے تو آپ کی اخلاقی حمایت ہونے یا نہ ہونے سے بھی خاص فرق نہیں پڑے گا۔

بہر حال گذشتہ چند روز میں آپ اور آپ جیسے دیگر صحافی دوستوں، کالم نگاروں، اینکر پرسنز اور دوسرے دوستوں کو جس پریشانی کا سامنا رہا ہے ہم اس میں آپ کے برابر شریک ہیں۔ علامہ ساجد نقوی اور ہماری کیمونٹی کی طرف سے اپنے کالم کے ذریعے ہماری جذبات اپنے دوسرے ساتھیوں تک بھی پہنچا دیجئے۔ ہم ان افراد کی شدید مذمت کرتے ہیں جنہوں نے ہماری کیمونٹی کا نام استعمال کر کے آپ اور آپ کے ساتھیوں کو ہراساں و پریشان کیا اور دراصل اپنے اوپر ہونے والی آپ کی مثبت تنقید کا بدلہ چکایا لیکن پھر بھی اگر ہماری کیمونٹی کے جذباتی افراد نے بلا سوچے سمجھے ایسا جذباتی اقدام کیا ہے تو میں آپ سے یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔ امید ہے آپ اس سازش کو درک کر چکے ہوں گے اور مستقبل میں اس کا اثر نہ لیتے ہوئے 7 اپریل والے موقف کو مزید دلائل و براہین کے ساتھ پیش کرتے رہیں گے اور اسلام و پاکستان کے ساتھ پر خلوص وابستگی کا اظہار کرتے رہیں گے۔ ہم خدمت کے تمام راستوں میں آپ کے ہم سفر ہوں گے۔
والسلام
سید اظہار نقوی
سیکریٹری اطلاعات
شیعہ علماء کونسل صوبہ پنجاب۔   



نوشته شده در یکشنبه 27 فروردین 1391 توسط علی پور گھلواں


گھلواں وبلاگ : ۱۵ اپریل ۲۰۱۲ ء علی پورکی معروف سایسی و سماجی شخصیت ملک شہباز علی گھلو نے کہا  ہے کہ چلنے والے وہ مدارس جو دھشت گردی کے مکتب بن کر شیعہ نسل کشی میں شریک ہیں۔ ھمارے حکمران بھی کشکول تھامے انہیں کے در کے بکھاری بن چکے ہیں جن کے محلات میں شیعہ نسل کشی کے منصوبہ بنائے جاتے ہیں۔یاد رھے اس ملک میں نہ ہی شیعہ سنی کا کوئی مسئلہ تھا،اور نہ اب کوئی مسائل  ہیں، بس چند فرقہ پرست افراد شیعہ نسل کشی میں ملوث ہیں۔ وہی جو قائد اعظم کو کافر اعظم کہا کرتے تھے اور آج اپنی کشتی کو ڈوبتا دیکھ کر دفاع پاکستان کا نعرہ لگاتے ہیں۔ جنہیں پاکستان کے خفیہ اداروں کے کچھ افراد کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔


 انہوں نے مزید کہا اے پاک دھرتی کے غدار بیٹو سن لو!! تم یزیدی عزائم پر چلتے رہو ھم یا حسین یا حسین کرتے رھے گے۔ ھمارا ایمان ہے کہ یہ وطن پنجتن کا صدقہ ہے۔ جس کی جنگیں نعرہ حیدری لگا کر جیتی گئی ہیں۔جس کو آج یہ ذکر گوارا نہیں وہ ھمارا نہیں، نہ اسلام کا، اور نہ ہی وہ پاکستان کا ہے


نوشته شده در یکشنبه 27 فروردین 1391 توسط علی پور گھلواں


نوشته شده در شنبه 26 فروردین 1391 توسط علی پور گھلواں
گھلواں وبلاگ : ۱۴ اپریل ۲۰۱۲ ء نمائندے کی رپورٹ کے مطابق علی پور میں سوئی گیس کا افتتاح کرنے کیلئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی آمد متوقع ہے تمام انتظامات مکمل ۔ گزشتہ الیکشن میں کامیاب ہونے والے پی پی پی کے امید وار عبدالقیوم خان جتوئی نے علی پور کی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ میں علی پور کو گیس فراہم کروں گا وہ کامیاب تو ہو گئے تھے لیکن انہیں یہ وعدہ نبھانے کیلئے چار سال سے زیادہ عرصہ کی تگ و دو کے بعد کچھ کرنے کا موقع ملا ہے ۔ یہ مہربانی آئندہ الیکشن کیلئے ہے یا وہی پرانا وعدہ پورا کیا ہے ؟ لیکن اس ایک کام کے علاوہ علی پور میں کوئی اور بھی ترقیاتی کام ہوئے ہیں یا نہیں ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو علی پور کی عوام عبدالقیوم خان جتوئی سے پوچھنا چاہتی ہے۔ واضح رہے کہ عبدالقیوم خان جتوئی کے سب سے بڑے رقیب عاشق حسین خان گوپانگ پہلے کی نسبت مضبوط نظر آتے ہیں اور ان کے علاوہ مسلم لیگ ن کے عبداللہ شاہ بخاری آف کانڈھ بھی علی پور کی سیاست میں وارد ہو چکے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پی پی پی  کی طرف سے علی پور کو گیس کی فراہمی قیوم خان کو آئندہ الیکشن میں کامیاب کرا پائے گی یا نہیں یہ ایک سوالیہ نشان ہے؟       

نوشته شده در شنبه 26 فروردین 1391 توسط علی پور گھلواں

گھلواں وبلاگ :9 اپریل ۲۰۱۲ ء

 

غلط سوال کا بیان:

آپ کایہ سوال ” کیا آپ زبردستی پردے کے موافق ہیں یا مخالف ؟ “صحیح سوال نہیں ہے ۔اگر سوال کی حدیں واضح ہو جائیں کہ زبردستی پردہ کسے کہتے ہیں ؟ اور زبردستی کی جگہ کیاہے؟سوال اپنے غلط ہونے کا خود اعلان کریگا ۔
کبھی پردے کو ایک عقلی یا دینی امر کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے ، یعنی پردے کو ایک جدید اور اعلی فکر کے عنوان کے مد مقابل پیش کیا جاتا ہے ، تاکہ مقابل بھی اس بات کو قبول کر لے، کبھی ایک ایمانی ، اور حکم الھی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے ، تاکہ اس پر ایمان لایا جائے ۔یہ بات واضح ہے کہ لفظ ”زبردستی “ان دونوں عناوین میں بے معنی ہے ،اس لئے کہ زبردستی نہ ہی فکر میں ممکن ہے اور نہ ایمان و یقین میں۔ لہذا یہ کہنا کہ کیا آپ زبردستی پردے کے قائل ہیں یا مخالف ؟ یہ سوال بنیادی طور پر غلط ہے ۔
کبھی پردہ معاشرے میں پائے جانے والے قانون کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، یعنی ایک فکر ی اور ایمانی بحث سے الگ جب انسان ایک معاشرے سے وابسطہ ہوتا ہے جو خاص قوانین کے زیر نظر چلتا ہے ۔کہ جس میں پردے کی رعایت کرنا معاشرے کے قوانین( جن کو باقاعدہ مقرر کیا گیا ہو) کی رعایت کرنا ہے ۔ ا س مقام پر بھی یہ سوال کہ ” کیا آپ زبردستی پردے کے قائل ہیں یا مخالف“ صحیح نہیں ہے، اس لئے کہ” زبردستی “یہاں پابندی اور اصرار کے معنی اس لئے دیتی تاکہ قانون کااجراء ہو سکے ۔اور قانون کے اجراء کی مخالفت کوئی بھی صاحب فہم و عقل نہیں کر سکتا ۔
ظاہر ہے کہ قوانین وہ راستے ہیں جن کو حکومتیں تشکیل دیتی ہیں اور شہر میں رہنے والے افرادکو بتائے جاتے ہیں، شہر کے ہر باشندے کو اس پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے ۔ اور جوبھی ان قوانین کی مخالفت کرتا ہے اس کو مجرم سمجھا جاتا ہے ۔اور جو ان قوانین کی پیروی نہیں کرتا حکومت اس کے خلاف رسمی عہدنامہ کے دستور کے مطابق عمل کرتی ہے ۔
اس کی عام فہم مثال یہ ہے جس کو ہر انسان قبول کرتا ہے وہ ٹریفک اور ڈرائیونگ کے قوانین میں مشاہدہ کر سکتے ہیں ، مثلا ایران میں اس طرح قانون بنایا گیا ہے کہ تمام گاڑیاں داہنی طرف چلتی ہیں ، چاہے وہ کسی بھی دلیل کی بنیاد پرہو ( چاہے غلط ہو یا صحیح )لیکن قانون بنانے والے نے یہ سسٹم بنایا ، اور اس کا اجراء کیا ،اور پلیس کو اس کے اجراء کا ذمہ دار قرار دیا کہ جو بھی اس کی مخالفت کرے اس کو روکا جائے ۔
اب فرض کریں کہ کچھ لوگ آئیں اور کہیں کہ ہم نے انگلینڈ میں دیکھا کہ گاڑیاں بائیں طرف چلتی ہیں ، اور یہ بہت عمدہ ہے ، ہم بھی چاہتے ہیں کہ آزادانا طریقه سے ان کی طرح عمل کریں ہم کو کیوں (بائیں طرف چلنے پر ) مجبور کرتے ہیں ؟ اگر ہم معاشرے کی اس مشکل کو حل کرنے کے لئے اور شہرکے باشندوں کے حقوق کی رعایت کے لئے اس سوال کو پیش کریں کہ کیا آپ جبرا بائیں طرف چلنے کے موافق ہیں یا مخالف ؟ اور اس کے بعد نتیجہ میں یہ فرض کریں کہ ہر آدمی کو آزاد ہونا چاہیے، چاہے وہ داہنی طرف چلے یا بائیں طرف ! تو یقینا نتیجہ میں مطلوب حاصل نہیں ہوگا ، لہذا اس طرح بنیادی طور پر اس سوال کی پیش کش غلط ہے جب تک اس ملک کا قانون داہنی طرف چلنے کا ہے، اور قانون کے اجراء کرنے میں زبردستی کرنا صحیح ہے، اور معاشرے کے کچھ افراد کا موافقت یا مخالفت کرنا کوئی حیثیت نہیں رکھتا ہے، اگر ہزار دلیل بھی کوئی پیش کرے کہ بائیں طرف چلنا بہتر ہے اور وہ اس کو قبول اور پسند کرے (تو بھی اس کی کوئی قیمت نہیں ہے) اگر و ہ اپنی پسند اور رائے پر عمل کرے تو یقینا پکڑا جائے گا اور ایک مجر م کے مانند سزا یا جرمانے سے دوچارہوگا، اگر پھر بھی اس سے بغاوت کرے تو معاشرے کی متعدد بدنصیبی سے دوچار ہو جائیگا ۔
لیکن وہ اس قانون کی مخالفت کے لئے قانون بنانے والے سے رابطہ کر سکتا ہے ، اور داہنی طرف چلنے کے غلط ہونے پر اپنے دلائل پیش کر سکتاہے اور عقلی اور منطقی بنیاد پر اس کو زیر سوال لاکر اس کو قانع کرے کہ تمہارا یہ قانون نقص کا حامل ہے ۔ اگر وہ اس قانون کو بدل دے تو اس وقت وہ اپنے مقصد کو حاصل کرسکتا ہے(یعنی بائیں طرف چل سکتاہے) لیکن اس مقام پر بھی اس نئے قانون(جو اس کے کہنے پر بنا ہے) کے اجراء میں زبردستی کرنا پڑیگی ، جس کے طرفدار اور حامی اس موقع پر و ہ خود ہے ۔
 

قانون بنانے کی بنیاد:


ہرسالم اور تہذیب یافتہ معاشر ے میں کچھ خاص قوانین حاکم ہوتے ہیں جو ان کے یقین اوراعتقادات کے مطابق ان کے چنیدہ افراد کی مرضی سے بنائے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور وہ ہر معاشرے کے پاس متفاوت ہوتے ہیں۔ مثلا کسی ملک کے معاشرے میں قانون حریت پسندی کی بنیاد پر وضع کئے جاتے ہیں ، اور کسی معاشرے میں اشتراکی فکر کی بنیاد پر ۔ اس نظام کا کوئی بھی اور کچھ بھی سبب ہو ،کسی بھی بنیاد پر بنایا گیا ہو، چاہے صحیح ہو یا غلط ، جب بھی معاشرے کے قوانین کا مرحلہ مکمل طور پر طے ہو جاتا ہے ،الزام اور زبردستی کا مسئلہ قانون کے اجراء کے لئے ایک بدیہی اور معقول امر ہوتا ہے ، اس لئے کہ اس کا قبول نہ کرنا قانون کے اجراء کی ضمانت کا خاتمہ کرنا ہے ، اور جو قانون اپنے اجراء کی ضمانت نہیں رکھتا ہے اس میں اور بے قانونی اور ہرج و مرج میں کوئی فرق نہیں ہوتا ۔
لہذا اگر کسی معاشرے کے قوانین اسلامی فکر اور نظام کے مطابق ہوں، اور اس بنیاد پر اس ملک کے قوانین مرتب اور مقرر ہو جائیں ، تو اجراء کی ذمہ داری کے حوالے سے اس کے جاری کرنے میں الزام اور اجبار بھی دوسرے قوانین سے الگ نہیں ہونگے ۔اور اس کے اجراء میں زبردستی کرنا ایک بدیہی اور معقول امر سمجھا جائے گا ۔
اگر اس موقع پر پردے کے مسئلے میں غور کریں، کہ جو حکومت اسلامی میں ایک قانون کے عنوان سے مقرر ہوا ہے،تو اس کے اجراء میں زبردستی کرنا ایک معقول اور لازم امر ہونا چاہیے ۔اس لئے کہ یہاں بحث نظریاتی یا ایمان لانے کی نہیں ہے ، بلکہ قانون کی ہے لہذا اب چاہے یہ قانون صحیح ہو یا غلط اس کا اجراء ہونا ضروری ہے ۔
 

صحیح سوال :


صحیح سوال یہ ہے کہ ہم یہ پوچھیں :کیا آپ اصل حجاب کو مانتے ہیں یا نہیں؟ اصل حجاب اچھا ہے یا برا ؟ اس کا قانونی ہونا عقلی یا شرعی بنیاد پر ہے یا نہیں ؟
اس موقع پر ممکن ہے کہ کوئی اعتراض کرے کہ مثلا عقل اور صحیح فکر کی بنیاد پر یا ایمانی نقطہ نگاہ سے پردے کے شرعی ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے، لہذا اس مقام پر الزام اور جبر بے معنا ہے، لہذا ہر آدمی اپنے نظریہ کو قانون ساز کے سامنے پیش کرے او ر اس کو قانع کرے کہ یہ قانون بدلنا چاہیے، اور قانون بنانے والے کو چاہیے کہ طے کرے کہ پردے کی رعایت ہونی چاہیے یا نہیں؟ یہ امر قرین عقل ہے یا نہیں ؟ اس کا کوئی فائدہ ہے یا نہیں؟ بہتر ہے یا بہتر نہیں ہے ؟ لیکن جب تک پردے کی رعایت کا قانون باقی ہے ضروری ہے کہ اس کی رعایت کی جائے اور اس کے جاری رہنے میں زبردستی کرنا بھی ایک ضروری عمل ہے ۔
چنانچہ پردے کے مسئلے میں دو بحثیں قابل غورہیں : پہلی یہ کہ اصل پردا بہتر ہے یا بہتر نہیں ہے؟ اس مقام پر اجبار کے کوئی معنی نہیں ہیں ، لہذا بحث کرکے نتیجہ تک پہنچنا ہوگا کہ اس کو ہونا چاہیے یا نہیں۔؟
دوسری بحث یہ کہ پردے کی رعایت کے قانون میں زبردستی کرنابہتر ہے یا نہیں؟اس مقام پر زبردستی اور اجبار کا مفہوم قانون کے مفہوم سے بہر حال الگ ہے اور بہتریا بہتر نا ہونے کا سوال بالکل غلط سوال ہے ۔
اگر پردہ موجودہ حکومت کے قوانین کی بنیاد پر بہتر ہو ، اوراس کو مقرر کردیا گیا ہو اس کے بعد اس بحث ” کہ اس کا ضروری ہونا بہتر ہے یا نہیں ؟“ کی گنجائش نہیں رہ جاتی ہے ۔اس لئے کہ اگر قانون ہے تو پھر زبردستی کرنااس سے جدا نہیں ہو سکتا ، چاہے ہم اس کو پسند کریں یا پسند نا کریں۔اب جبکہ یہ بات واضح ہوگئی کہ صحیح سوال کیا ہے ، لہذا اس کے جواب کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ کیا حکومت اسلامی میں کہ جس کے قوانین اسلامی اور ایمانی افکار کی بنیاد پر ہو ں، قانون بنانے والا پردے کو ایک مستقل قانون بنائے یا نہیں ۔؟
اس سوال کے جواب کو دو رخ ”فکر“ اور ”ایمان“ کے حوالے سے ملاحظہ فرمائیں، تاکہ عقلی اعتبار سے اہل دانش اور ایمانی اعتبارسے اہل ایمان کے لئے اس قانون کے تقرر کے لئے وضاحت ہو سکے ۔


۱۔ پردے کی ضرورت پر ایمانی دلیل:

 

اس میں شک نہیں ہے کہ ہر دین میں پہلی شرط ایمان ہوتی ہے کہ خدا اور اس کے پیغمبر پر ایمان لایا جائے ۔ اور صاحبان ایمان اس بات کو ضروری جانتے ہیں کہ جو کچھ بھی خداوند عالم کی جانب سے اس کے پیغمبر کے ذریعے ان کے لئے آیا ہے اس کو دل و جان سے قبول کریں۔اور اس کے حکم پر اپنا سرتک قربان کردیں۔اور اعتقاد رکھتے ہیں کہ جو کچھ بھی خدا وند حکیم کی جانب سے انسا ن کے لئے جو اس کی مخلوق ہے قانون بھیجے گئے ہیں ان پر عمل کرنا دیگر قوانین سے زیادہ بہتر ہے ۔
دین اسلام میں ان قوانین کا سرچشمہ آسمانی کتاب قرآن مجید ہے، جو ہم کو سنت رسول کی پیروی کا حکم دیتی ہے، اور سنت رسول ہم کو ائمہ معصومین (ع) کی پیروی کا حکم دیتی ہے، لہذا اس طرح منبع اسلام تین قرارپاتے ہیں، ۱۔ قرآن ۲۔ سنت پیغمبر(ص)۳۔ سیرت معصومین علیہم السلام۔
اگر قرآن مجید کا مطالعہ کیا جائے تو ایک مسلمان عورت کے لئے پردے کا واجب ہونا صاف اور واضح نظر آتا ہے، جس کی وضاحت کے لئے سنت پیغمبر کی بھی ضرورت نہیں ہے( جیسا کہ بہت سے قرآنی احکام کی وضاحت کے لئے سنت کی ضرورت ہوتی ہے) ۔
پہلی آیت :
وقل للمئومنات یغضضن من ابصار ھن و یحفظن فروجھن ولا یبدین زینتھن الا ما ظھر منھا و لیضربن ، و بخمرھن علی جیوبھن والا یبدین زینتھن الا لبعولتھن او آبائھن او آباء بعولتھن او ابنائھن اوا ابناء بعولتھن او اخوانھن او بنی اخوانھن بنی اخاتھن او نسائھن او ما ملکت ایمانھن او التابعین غیر اولی الاربة من الرجال او الطفل الذین لم یظھروا علی عورات النساء والا یضربن بارجلھن لیعلم ما یخفین من زینتھن و توبوا الی اللہ جمیعا ایھا المومنین لعلکم تفلحون(۳) (۲)
اے رسول موٴمنہ عورتوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی آنکھوں کو (ہوس بازوں کی نگاہ ) سے محفوظ رکھیں، اوراسی طرح اپنے دامن عفت کو محفوظ رکھیں، اور ااپنے اعضاء کو (سوائے ان اعضاء کے جن کا ظاہر کرنا جائز ہے)نمایاںنہ کریں، اور اپنے ڈوپٹے کو سینے پر ڈالیں( تاکہ گردن اور سینہ اس کے ذریعے چھپ جائے)،اور اپنی زینت (اعضاء ) کوسوائے اپنے شوہر ،یاوالد ،یا اپنے شوہر کے والد، یا اپنے بیٹوں ، یا ؟؟؟؟یا اپنے بھائیوں ، یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں،یا اپنی بہنوں کے بیٹوں، یا اپنے ہم مذھب عورتوں ، یا اپنی کنیزوں ، بے وقوف مردوں کو جو ان سے وابسطہ ہیں اور اورعورتوں کی طرف کو ئی رغبت نہ رکھتے ہوں، یاجو بچے جنسی امور سے اگاہی نہیں رکھتے ہیں،کے علاوہ کسی دوسرے کے لئے نمایاں نہ کریں،اور (اے پیغبر آپ صاحبان ایمان عورتوں سے کہہ دیجیے کہ( راستہ چلتے وقت اپنے اپنے قدموں کو زمین پر اس طرح رکھیں کہ ان کی مخفی زینت ظاہر نہ ہو پائے (یعنی پیروں کی پائل کی آواز لوگوں کے کانوں تک نہ پہنچنے پائے )، اے مومنوں سب کے سب اللہ کی طرف پلٹ آؤ، تاکہ نجات پا جاؤ۔
دوسری آیت :یا ایھا النبی قل لازواجک و بناتک و نساء امومنین یدنین علیھن من جلابیبھن ذلک ادنی ان یعرفن فلا  یوذین و اکان اللہ غفورا رحیما (۵) (۴) ۔
اے پیغمبر اپنی زوجات ، بیٹیوں اور مومن عوتوں سے کہ کہہ دیجیے کہ اپنے ڈوپٹے کواپنے اوپر ڈالیں، اور وہ اس کے ذریعے پہچانی جائیں، اورکسی کو اذیت نہ پہنچائیں یہ کام بہتر ہے،(اور اگر اب تک ان سے کوئی کوتاہی ہوئی ہو تو انہیں چاہیے کہ توبہ کریں ، اللہ بہت معاف کرنے والا اور مہربان ہے ۔
ان دو آیتوں میں پانچ قسم کے دستور پردے اور اس کی کیفتیت کے بارے میں بیان ہوئے ہیں ۔
۱۔لا یبدین زینتھن الا ما ظہر منہا (اپنی زینت کو سوائے اس کے جو ظاہر ہیں نمایاں نہ کریں۔)
۲۔ ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن ۔(اپنے ڈوپٹے یا چادر کو اپنے سینے پر ڈالیں،(تاکہ گردن اور سینہ اس کے ذریعے چھپ جائے) ۔
۳۔ولا یبدین زینتھن الا لبعولتھن او (اپنی زینت کو اپنے شوہریا ۔۔۔کے علاوہ دوسروں پر نمایاں نہ کریں۔)
۴۔ ولا یضربن بارجلھن لیعلم ما یخفین من زینتھن (اپنے پیروں کو زمین پر اس طرح رکھیں کہ ان کی مخفی زینت آشکارنہ ہو جائے)
۵۔ یدنین علیھن من جلابیبھن (اپنے ڈوپٹے کو اپنے اور پر ڈالیں۔
یہ پانچ دستور وہ ہیں جو امر و نہی کے قالب میں خدا وند عالم کی جانب سے براہ راست صادر ہوئے ہیں ، اور پردے کی ضرورت اور رعایت کے لئے اہل ایمان کے لئے ایک دلیل کی حیثیت رکھتی ہے ،اوران کے لئے اتمام حجت ہے ۔
 

پردے کی ضرورت پر عقلی دلیل:

پردہ کی کیا ضرورت ہے ۔

معاشرے کے آداب اور تقالید جو معاشرے میں اخلاقی دستور بناتے ہیں، ان کا پہلا فرض یہ ہے کہ مرد وعورت کے درمیان ایک محکم اور متین رابطہ قاتم کریں ، تاکہ یہ ارتباط جھگڑے اور فساد کا سبب نہ بن جائےںجس کے نتیجہ میں پستی سے دوچار ہونا پڑے ۔اور اس رابطے کی تنظیم کے لئے بینادی عمل شادی کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔
لاندر کا کہنا ہے کہ یاریبا قبیلہ میں بومیان کے درمیان عورت کو شادی کے ذریعے اپنانا ایک ایسا امر ہے کہ جس کی طرف لوگوں کی رغبت بہت کم ہے، گویا عورت کا حصول ان کے نزدیک ایک گندم کا خوشہ توڑنے کے مانند ہے، یعنی عشق ومحبت کا تصور ان کے یہاں سرے سے نابود ہے ۔ اس لئے کہ شادی سے پہلے جنسی روابط ان کے درمیان ممنوع عمل نہیں ہے ،اس لئے مرد کے سامنے جنسی شہوت کے حصول میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، جس کے نتیجے میں اس کے دل میں عشق و محبت پیدا نہیں ہو پاتی کہ جس کے سبب اس کے یہاںعورت کے حصول میں شدت کے ساتھ قلبی میلان پیدہو سکے، چنانچہ جوان جب بھی چاہتا ہے اپنی جنسی خواہش کو آسانی سے پورا کر لیتا ہے ۔لہذا کوئی علت یا سبب ایسا پیدا نہیں ہو پاتاہے جس کے سبب وہ اپنے ضمیر یا احساسات میں پیدا ہونے والی تحریک کے بارے میں غور و فکر کرے ، اس تحریک کو خاموش کرنے کی فکر کرے ،اور اپنے اس پسندیدہ میلان کو عظیم تصور کرے ، تاکہ اس میلان اور تحریک کے نتیجے میں ایک دل کش عشق وجود میں آئے ۔لہذا وہ کہتا ہے کہ اس معاشرے میں عورت و مرد ایک دوسرے سے کوئی رغبت نہیں رکھتے ، اورایک دوسرے کی حالت کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ۔یہی وجہ ہے کہ شوہر و بیوی کے در میان بھی کسی قسم کے آثار محبت دیکھنے میں نہیں آتے ہیں ۔
پردہ لڑکی کے لئے ایک قسم کاایسا وسیلہ ہے کہ جس کے ذریعے وہ اپنی طرف مرغوب ہونے والے افراد میں کسی ایک بہتر شخص کا انتخاب کر سکتی ہے، اوراپنی طرف مرغوب ہونے والی فرد کو اس بات پر مجبور کرسکتی ہے کہ کہ وہ تھذیب اور سلیقے کے ساتھ اس کا حصول کرے ۔عورتوں کی شرم و حیا اور عفت کا مردوں کی شہوت کے مقابلہ میں مانع ہونا،شاعرانہ عشق اور محبت کا سبب بنتا ہے اور عورت کی قدر و قیمت کو مردوں کی نگاہ میں مزید گراں بنا دیتا ہے ۔ اور بکارت کو اہمیت دینے والے نظام کی پیروی سے ، ؟؟؟؟وہ آسانی اور اطمئنان جو شادی سے پہلے جنسی خواہش کی آرزومیں پایا جاتا تھا ،اوروقت سے پہلے ماں بن جانے والے امور کو ختم کر دیتا ہے ۔ اور ظاہر ہے بکارت کے بارے میں اس طرح کی فکر جسمانی اور عقلی اعتبار سے اور مزید طاقتور بنا دیتی ہے ، جوانی اور تربیت کے دور میں ؟
جنسی روابط کو نظم و ضبط دینا ہمیشہ اخلاق کے مہمترین فرائض میں شمار ہوتاہے ۔اس لئے کہ بچہ پیدا کرنے کا غریزہ تنھا شادی کے موقع ہی پر ہی مشکل پیدا نہیں کرتابلکہ شادی سے پہلے اور اس کے بعد بھی مشکلات کا سبب بنتا ہے ۔اس کے نتیجے میں میں اس غریزے میں شدت اورقانون کی نافرمانی اور طبیعی راستے سے انحراف ، معاشرے میں بچے پیدا کرنے نظام میں بد نظمی اور اور سرکشی کا سبب بنتا ہے ۔جبکہ جنسی زندگی جانوروں کے درمیان بھی آزاد اور بے لگام نہیں ہے، اس لئے کئے مادہ جانور بھی ایک معین وقت کے علاوہ کسی نر جانور کو قبول نہیں کرتا ہے ۔
انسانی معاشرہ اپنی تاریخ میںہر قسم کے پردے یا برہنگی اور جنسی روابط کو ایک قانون کی حیثیت سے تجربہ کر چکا ہے ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی معاشرے میں پردے کا وجود عشق کے مفہوم پر مبنی تھا ، اس بیان کے ساتھ کہ جب بھی میں کسی سے وابسطہ ہوتا ہوں اور اس سے محبت کرتا ہوں ، تو یہ احساس مجھ میں پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ مجھ سے تعلق رکھتا ہے اور کوئی دوسرا میرے عشق میں تصرف کا حق نہیں رکھتا، اگر کوئی دوسرا میرے عشق پر نظر ڈالے تو وہ میری نفرت کا شکار ہوجاتا ہے ۔ دوسری جانب میرا اس سے عشق کرنا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ میں اس کی حمایت کروں،تاکہ دوسرا اس کی طرف نہ آسکے ،اور سب اس بات کو سمجھ لیں کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے لئے ہیں ۔یہ وہ احساس ہے جو میرے عشق کے درمیان انے والے افراد کے ساتھ سخت برتاؤ پر مجبور کرتا ہے، اور یہ احساس تقاضا کرتا ہے کہ دوسرے لوگ ان دوعاشقوں کے رابطے کو رسمی سمجھیں ، اور اس کی حدوں کی رعایت کریں ،اور اسی مقام سے شادی کے مسئلے نے اپنی شکل اخیتار کی اور رسمیت حاصل کی،اس طرح ہر فرد اور معاشرہ، جنسی کمیونزم اورمرد و عورت کے غیر قانونی روابط سے الگ ہو جاتاہے ۔اور اس طرح عشق کا خوبصورت مفہوم جو دو عاشقوں کے درمیان مشاہدے میں آتا ہے ،شادی کے مفہوم کومزید حسین اورپسندیدہ بنا دیا ۔
اس بحث کے تسلل میں ،جس وقت کوئی شخص یہ دیکھتا ہے کہ اس کا محبوب اس سے پہلے کسی دوسرے کے ساتھ وابسطہ تھا ،تو اس کے یہاں دلشکنی اور تردد کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، اورمحبوب کا سابق رابطہ عشق اور خلوص میں کمی کا سبب بن جاتا ہے ، اور یہ امر اس نئے عشق پر اثرانداز ہوتا ہے،اور انسان اس بات کا مشاہدہ کرتا ہے کہ جو عشق ماضی میں کسی سے وابسطہ نہیں ہوتا ہے وہی زیادہ خوبصورت اور دل آویز ہوتا ہے ۔لہذاس قسم کی عورتیں جب اپنے عشق کو خلوص سے خالی دیکھتی ہیں تو بکارت کے تصور کو اپنی ہم جنس عورتوں کے درمیان رائج کرتی ہیں تاکہ وہ اپنے شوہروں سے عشق کرنے سے پہلے اپنے جسم کو کسی دوسرے کے حوالے نہ کریں، اور یہ کام ان کو اپنے عشق کے سامنے حقیر اور رسوا نہ کر سکے ۔
اس طرح کی سازگاری کنوارے پن کے مفہوم کو گراں قدراوربے بہا بنا تی ہے،اس لئے کہ عشق اور شادی کی حسین صورت بھی کنوارپن تک سرایت کرتی ہے،اس راہ میں اگر کوئی لڑکی خالص عشق کے حصول کی خاطر باکرہ رہنا چاہے تو دوسروں کی نگاہوں سے اپنے آپ کو محفوظ نہیں کرسکتی، اور سخت حالات کا سامنا کرتی ہے،لہذا سوائے اپنے آپ کو پردے میں چھپانے کے اس کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے،لہذا اپنی باطنی خوبصورتی اور اپنے کلام کی دلفریبی کو پردے میں رکھے تاکہ غیروں کی اس تک رسائی نہ ہونے پائے ۔اس طرح پردہ معاشرے میں اپنا وجود پیدا کرتا ہے، عشق ، شادی اور کنوارے پن کے حسن کا مالک بن جاتا ہے، اور کنوارے پن ،شادی اور خالص عشق کے حصول کے لئے ایک صدف کی مانند ہو جاتا ہے ۔
اس طرح پاکیزہ عشق معاشرے میں عورت و مرد کے رابطہ کو محکم بناتا ہے اور اصول و قوانین پر اس کی بنیادیں رکھتا ہے جس کو ہر عقل سلیم دوسرے تمام طریقوں پر فوقیت دیتی ہے،یا د رہے اس قسم کا عشق ہمیشہ تھذیب و تمدن کی ترقی کا ثمرہ ہوتا ہے، جہاں انسانی شہوت کو اطمئنان بخشنے کے لئے اخلاقی تعلیمات کے مطابق کچھ حدیں بنائیں جاتی ہیں ۔

 

پردے کی مخالفت میں ایک منطقی نتیجہ

 

پردے کا انکار در حقیقت شہوانی قوت کا آزاد کرنا، یااس کو وسعت دینا ، یا برانگیختہ کرنا یا اس کے بے لگام ہونے پر راضی ہوجانایا اس کوتمام حالات میں محبوس کرناہے ، جواس کو باغی و سرکش بنا دیتا ہے،اور نتیجہ میں انسان عقل کے حوالے سے ناتوان ہو جاتا ہے ، اور وہ کمال تک پہنچنے سے معذور ہو جاتا ہے ۔
وہ خاتون جو خود کو زینت دے کر سڑک پر آتی ہے اور اپنے پوشیدہ حسن کے جلوے دکھاتی ہے، اس کو یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ اس کا یہ عمل مردوں کے لئے تحریک کا سبب بنتاہے، اور کسی کی شہوت کو برانگیختہ کرنا اس کے حق کا تجاوز کرناہے، کسی کی شہوت کو تحریک کرنے کا حق صرف اس کو ہوتا ہے جو اس کی شہوت کو پورا کرسکے ۔
آپ فرض کریں کہ ایک خاتون جو دس یا سو آدمیوں کی شہوت کو اپنے چہرے یا کسی پوشیدہ عضو کے ظاہر کرنے یا بالوں کے ذریعے برانگیختہ کرے ، یعنی اس نے اپنے بناؤ سنگار کے ذریعے ان کے وجود میں ہوس پیدا کی ہو ، اور اپنی طرف راغب کیا ہو (جبکہ یہ کیفیت مردوں میں فطری طور پر پائی جاتی ہے ،کہ اگر وہ کسی ہیجان آور منظر کو دیکھتے ہیں تو یہ نا ممکن ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہیجان سے بچا لیں لیکن عورت اپنے آپ کو چھپا سکتی ہے)، لہذا یہاں دو ہی صورتیں ہیںیایہ بے پردہ عورتیں ان سب کی شہوت کو پورا کریں، اور یہ کام ان تمام عورتوں سے کہ جو بے پردہ باہر نکلتی ہیں بعید ہے (خاص عورتوں کی بات یہاں نہیں ہیں جن کا یہ ہی پیشہ ہے)اس لئے کہ گفتگو ان خواتین کی ہے جو خاندانی اور عزت دارہیں، جن میں بہت سی متدین بھی ہوتی ہیںاور ممکن ہے اہل نماز اور اہل خدا بھی ہوں ۔ اگر یہ عورتیں ان کی شہوتوں کو پورا نہیں کر سکتی تو پھر ان کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی کو ہیجان میں لائیں اور دوسرے کی حریم پر تجاوز کریں ۔اس لئے کہ یہ مردوں کا حق ہے ان سے نہیں کہا جا سکتا تم آنکھیں بند کرکے راستہ چلو ، لیکن عورتوں سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اپنے حسن کا مظاہرہ یا اپنی زینت کو عیاںنہ کریں ۔
بے پردہ معاشرے میں عورتوں کی مشکلات
مغرب کا مشہور جامعہ شناس” آنتونی گیدنز “ معاشرے میں رہنے والی خواتین کی مشکلات کوبے پردگی کی علت شمار کرتا ہے ، ہم اس مقام پر بعض نکات کی طرف اشارہ کریں گے ۔
اس معاشرے میں عورتوں کی واضح ترین تکلیف جنسی تکلیف ہے ۔جنسی تکلیف جو کام کرنے کی جگہ اقتدار یا قدرت کے استعمال سے عورت پر تحمیل کی جاتی ہے ، ممکن ہے یہ مشکل اس وقت مزید سخت ہو جائے جب کسی کام کرنے والی عورت سے یہ کہا جائے کہ یا جنسی عمل پر راضی ہو جائے یا کام چھوڑدے ۔اگر چہ ممکن ہے مردنرمی کے ساتھ واقع ہونے والی جنسی مشکل کو نقصان دہ شمار نہ کریں ۔ لیکن غالباتمام عورتیں اس کو ذلت و رسوائی سمجھتی ہیں،اورعام طور پر عورتوں سے امید کی جاتی ہے کہ جنسی گفتگو یا اشارے یا نامطلوب قربت کو برداشت کرے اور اس کو کوئی اہمیت نہ دیں ۔
ظاہر ہے کہ مرد کاشرعی طریقے سے عورت کا حاصل کرنا اور اس سے قربت کرنا، غیر شرعی طریقے سے الگ ہے، اس کا ایک تصور کرنا آسان نہیں ہے؛ جیسا کہ شخصی رپورٹ کی بنیا د یہ نتیجہ دیکھنے میں آیا ہے کہ انگلینڈ میں ہردس عورتوں میں سات عورتیں اپنے کام کی زندگی میں جنسی مشکلات سے دوچار رہوتی ہیں، جبکہ عملی طور جنسی تجاوز کا صحیح اندازا لگانا بہت دشوار ہے ،اس لئے کہ بہت کم واقعات جنسی مشکلات کے پلس تک پہنچتے ہیں جنہیں درج کیا جاتا ہے، اور اصلی تعداد ممکن ہے اس رکورڈ کے پانچ برابر ہو ، بہر حال نتیجہ اندازے سے کہیں زیادہ ہوتا ہے ۔
ایک تحقیق کے مطابق لندن میں ۱۲۳۶ عورتوں نے اس بات کو آشکا رکیا کہ ان میں ہر چھ عورتوں میں ایک عورت جنسی تجاوز کا شکار ہوئی ہے، اور باقی پانچ عورتوں میں صرف ایک عورت اس بات پر قادر ہوئی کہ اس تجاوز کا مقابلہ کر سکے،اور تجاوز کے نصف حادثے یا عورت کے اپنے گھر میں یا تجاوز کرنے والے کے گھر میں پیش آئے ہیں ۔ اکثر وہ عورتیں جو جنسی تجاوز کا شکار ہوتی ہیں چاہتی ہیں کہ اس حادثہ کو اپنے ذہن سے نکال دیں ، یا اس کی شکایت کرےںکہ جہاں ایک ذلت آمیز طبی معاینہ اور پلیس کی تحقیقات اور کورٹ جانے وغیرہ کی مشکلات سے دوچار ہونا ہوگا، جس کی اس میں اب سکت نہیں ہوتی ہے ، اور ساتھ ساتھ کورٹ کے معاملاات غالبا بہت زیادہ وقت لیتے ہیں ممکن ہے کہ کورٹ، حادثے کے ۱۸ مہینے کے بعد کوئی فیصلہ سنائے ، اور فیصلہ ممکن ہے پریشان کن ثابت ہو جائے، اور کورٹ کے واقعات ہمیشہ علنی ہوتے ہیں،کو رٹ میں مظلوم ظالم کے رو برو ہوتا ہے ،( جو خود ایک وحشت ناک منظر ہوتا ہے) اور اس کے علاوہ د عام طور پرمرد تنھا گواہی کی بنیاد پر مجرم قرار نہیں دیے جاتے اس کے لئے دوسرے محکم ثبوت در کار ہوتے ہیں،یا دوسرے مدارک جو دخول کو ثابت کرتے ہوں، تجاوز کرنے والے کی شناخت ، اس کے علاوہ یہ کہ حادثہ عورت کی مرضی کے بغیر پیش آیا ہے ،ان تمام ثبوت کا فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے ۔
آخری چند سالوں میں عورتوں کی تحریک نے جنسی تجاوز کے بارے میںاس عمومی اور قانونی فکر کو بدلنے کے بارے میں بہت اصرار کیا ہے،اور انہوں نے تاکید کی ہے کہ جنسی تجاوز کو تنھا جنسی مخالفت کا عنوان نہ دیا جائے ، بلکہ ایک درد ناک تباہ کاری کا نام دیا جائے اس لئے کہ جنسی تجاوز صرف ایک فیزیکی حملہ نہیں ہے بلکہ تمام انسانوں کی عظمت اورعزت پر حملہ کرناہے ۔ یہ ہی وجہ ہے آج عام طور پر جنسی تجاوزایک قسم کی تباہ کاری جانی جاتی ہے ۔
براون میلر کی نگاہ میں ایک عنوان سے تمام عورتیں جنسی مشکلات سے دوچار ہیں، اس لئے کہ اس طرح کے معاشرے میں وہ عورتیں جو جنسی تجاوز کا شکار نہیں ہیں وہ ان عورتوں کی طرح جو اس مشکل سے دوچار ہوئی ہیں(اس کے خوف و وحشت سے ) مضطرب رہتی ہیں،یہ عورتیں ممکن ہے رات میں اکیلی باہر چلی جائیں ،سڑکوں پر گھومتی ہوئی نظر آئیں ، یا کسی گھر یا فلیٹ میں اکیلی رہتی ہوں،لیکن ممکن ہے کہ انہیں عورتوں کی طرح تنھائی سے وحشت زدہ رہتی ہوں ۔
سوزان براون میلر کا کہنا ہے کہ مردوںکا عام طور سے ان کی خواہشات کے علاوہ ان کا جنسی تجاوز کرنا ایک مردانہ چیلنج ہے جس سے تمام عورتیں خائف رہتی ہیں، جو عورتیں تجاوز جنسی کا شکار نہیں ہوئی ہیں ، وہ ایک بے چینی اور اضطراب کا شکار رہتی ہیں ، ان کو چاہیے کہ اس طرح کی زندگی میں مردوں سے زیادہ محتاط رہیں ۔
مندرجہ ذیل ایک فہرست ذکر کی جا رہی ہے جس میں ضروری اور غیر ضروری باتیں جنسی تجاوز کے خطرے سے بچنے کے لئے ذکر کی گئی ہیں،یہ فہرست امریکا میں عورتوں کی ایک انجمن کے ذریعے نشر کی گئی ہے ، یہ فہرست اس بات کی تاکید کرتی ہے کہ جنسی تجاوز ایک ایسا جرم ہے جو تمام عورتوں کی زندگی پر اثرانداز ہوتاہے ۔
۱۔ اپنے گھر کو جتنا ممکن ہو محفوظ کیا جائے ۔
۲۔اگر گھر میں اکیلی رہتی ہوں تو گھر کی لائٹوں کو جلا رہنے دیں تاکہ دوسرے کو یہ محسوس ہو کہ گھر میں ایک سے زیادہ افراد رہتے ہیں ۔
۳۔ جس وقت گھر کی گھنٹی پر جواب دو تو ایسا ظاہر کریں کہ گھر میں کوئی مرد موجود ہے ۔
۴۔اپنا نام دروازے پر یا ٹلفون بل پر نہ لکھیں ۔
۵۔ اگر کسی ایک اپارٹمینٹ میں رہتی ہوں تو اکیلے تہ خانے ، پارکنگ ، یا کپڑے دھونے والے روم میں نہ جائیں یا وہاں اکیلے نہ رکیں ۔
اس میں اس مقام پر تجاوز جنسی سے محفوظ رہنے کے لئے ۱۳ نکات ذکر کئے گئے ہیں ۔
لیکن جو نکتہ ان نکات میں فراموش کردیا گیا ہے جس کی رعایت سے معاشرے کے بہت سے مفاسد اور برائیوں کو نابود کیا جا سکتا ہے اور عورتوں کے لئے معاشرے میں امن کا سامان فراہم کرسکتا ہے وہ پردے کی رعایت کرنا ہے ۔افسوس کا مقام یہ ہے کہ پردے کے حوالے سے تنھا لا پرواہی سے کام نہیں لیا گیا ، بلکہ بہت سے حکمرانوں اور سیاست مداروںشیطانی سیاست کے ذریعے اس کے مقابلہ میں محاذ قائم کیااورانہوں نے پردے کو معاشرے سے بالکل ختم کرنے کے لئے قدم اٹھائے ہیں ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ازمائے ہوئے کو ازمانا ایک غلطی ہے،اگر آپ اس تیز رفتار معاشرے اور اس میں پائی جانی والی مشکلات جو ایک دوسرے کے دست و گریباں ہیں جن کا ذکر ہم نے کیا ہے ، اس سے کہیں زیادہ ہیں،کا مطالعہ کریں تو ایک ہی بات سمجھ میں آتی ہے ،کہ کم از کم ہم پردے کے مسئلے کو اس معاشرے کے لئے ایک نمونہ قرار دیں، اور معاشرے میں اس کا اجراء کریں، تاکہ اس کے وجود کا ہر درخت ثمرآور ثابت ہو سکے، اور معاشرے میں پردے کے ذریعے امن کی فضا قائم ہو سکے ۔
 

بہتر ین روش کا تسلط


بہت کم افراد ایسے ہیں جو قوی ارادے اور ایمان کے مالک ہیں اور ہر قیمت پر قانون شریعت کے ملتزم رہتے ہیں، معاشرے کی فضا ان پر اثر انداز نہیں ہوتی ، اور ان کے مقابلے میں کچھ لوگ لاپرواہی کے شکار ہیںاور قانون و شریعت سے سرکشی ان کی عادت میں شامل ہے، اور ان دو قسم کے درمیان اکثر لوگ موجودہ حالات یا وضع کے تابع ہیں، ہمیشہ یہ کہتے ہیں : ہم کیا کریں سبھی اس طرح ہیں..یہ ہی سب کا طریقہ ہے..سب جگہ یہ ہی بیچا جاتا ہے..ہم بھی ان کی طرح مصیبت میں پھنس جائیں گے ۔
اس موقع پر ظاہر ہے، ہر معاشرے کے سربراہ ، مربی اور قانون گر افراد کا یہ فریضہ ہے کہ معاشرے میں اس طرح کا ماحول پیدا کریں کہ عام طور پر معاشرے کی فضا پہلے گروہ کی طرف رغبت اور میلان پیدا کرسکے ،اور نتیجے میں قانون اورصحیح راستے کی فرماں بردار ہو جائے، اور دوسری قسم کے لوگ اپنے طریقے پر پر شرمندگی اورخفت محسوس کریں ۔
سوال یہ ہے کہ موجودہ روش کی تشکیل دوسری قسم کے افراد ہی کیوںانجام دیتے ہیں، جبکہ قانون اور شریعت کے مدافع پہلی قسم کے افراد ہیں؟ کیوں ایک مسلمان عورت کی بیٹی دوسرے کے سامنے اپنی ماں کے پردہ کرنے پر شرمندگی محسوس کرتی ہے؟کیوں معاشرے کے اکثر افراد بعض افراد کے رنگ میں رنگے جاتے ہیں،اور رفتہ رفتہ بعض افراد کی گندگی اور کجروی ایک روش بن جاتی ہے؟اقلیت کون سے حق کی بنیاد پر قانون اور شریعت کی مخالفت کرتی ہے؟
یہ بات مسلم ہے کہ معاشرے کی تمام روش اجراء کی ذمہ داری کے (چاہے حسب بط ہو یا حسب ضابط نہ ہو )ساتھ بعض افراد کی غلط روش کے مقابلے میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں ۔اب جبکہ پردا اسلامی قوانین کی بنیاد پرایک اسلامی قانون کی حیثیت رکھتا ہے ،لہذا ایک بہترین روش کی حیثیت سے جانا جائے گا ۔”اورآج مسلمان عورت ایک نمونے کے طور پوری دنیا میں پہچانی جاچکی ہے ۔لہذا صاحبان فکر ااور معاشرے کے دانشور افراد کو چاہیے کہ کام کرنے کے طریقے اور اس کے اجراء کی مثبت ضمانت ( صحیح راستے پر چلنے والوں کی جزاء) اور منفی ضمانت (اور منحرف افراد کی سزا )کے بارے میں علمی طور پر اس کی تحقیق کرکے اس کو مرتب کریں،اور معاشرے کے ثقافتی اور قانونی امور کے ذمہ دار افراد کو چاہیے کہ ان امور کا خیال رکھیں اور خود کو اس کا ملتزم بنائیں ۔ غیر رسمی اجرائی ضمانت کی تریج معاشرے کے ثقافتی مراکزجیسے میڈیا، ٹیلی ویزن، یا اس کے ڈرامے، کلچرل سینٹر کے سپر کئے جائیں اور رسمی اجرائی ضمانت کی ترویج اخلاقی امنیت کی ذمہ دار پلس کے حوالے کی جاسکتی ہے ۔
ان تمام باتوں کا نتیجہ یہ نکلتا ہے ، کہ پردے کو اگر ایک عقلی یا ایمانی امر تصور کیا جائے تو اس میں زبردستی یا جبر کا تصور نہیں کیا جا سکتا ،اور اگر اس کو ایک قانون کی حیثیت سے دیکھا جائے تو زبردستی یا جبرکا پایا جانا قانون کے حوالے سے ہوگا، جس کے لازم یا ضروری ہونے میں کوئی شک نہیں پایا جاتا ۔



حوالہ جات
۱۔ ظاہر کہ مخالف کے لئے دونوںنظریے ” فکر “ اور ”ایمان“کے راستے کھلے ہوئے ہیں ان میں سے جس کا چاہے انتخاب کر ے اور صحیح نظریہ کو پیش کر سکتاہے ۔
۲۔ النور آیت ۳۱۔
۳۔ ” ابدا“ اظہا کے معنی میں ۔ اور عورتوں کی زینت سے مراد وہ اعضاء ہیں جن کو زینت دی جاتی ہے ۔اور لفظ ” خمر“ او ر اس کی جمع خمار ہے، اور ”خمار“ وہ کپڑا ہے جسے عورت اپنے سر پر لپیٹتی ہے، اور بچے ہوئے کو اپنے سینے پر ڈالتی ہے ، جسے مقنعہ بھی کہا جاتا ہے ۔
اور آیت میں لفظ ”جیوب“ جیب کی جمع ہے جس کے معنی سینے کے ہیں ،اور گریبان کے ہیں ۔
لفظ ”بعولہ“ یعنی شوہر ۔ اور سات طوایف سے مراد وہ ہیں جو سببی یا نسبی طور پر محرم ہوتے ہیں ۔
لفظ ” اربہ“ خواہش کے معنی میں ہے اور اس سے مراد شہوانی خواہش ہے ۔
اور رجال تابعین سے مراد بے وقوف افراد ہیں کہ جو دوسروں کے زیر تسلط ہیں اور ان میں شہوت مردانہ نہیں پائی جاتی ۔
۴۔ احزاب آیت ۵۹۔
۵۔” جلابیب “ جلباب کی جمع ہے اور اسے مراد وہ لباس ہے جو سر سے پیر تک پورے بدن کو چھپا سکے ؛ جو عباء سے چھوٹا اور خمار سے بڑا ہوتا ہے ۔
” یدنین“ یعنی آگے کھینچتے ہیں ۔
۶۔ ان آیا ت کی مزید توضیح کے لئے آپ ان کی تفسیر اور ان روایات کی طرف جو ان کے ذیل میں وارد ہوئی ہیں مراجعہ کر سکتے ہیں ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ پردے کے سلسلے میں مندرجہ بالا آیات کے علاوہ اور بھی بہت سی آیات ہیں جو پردے کے ضروری ہونے پر دلالت کرتی ہیں ۔( جیسے سورہ نورکی ایت ۶۰ ، سورہ احزاب ایت ۵۳ )۔ اور بہت سی مستقل کتابیں پردے کے بارے میں لکھی گئی ہیں ان کی طرف مراجعہ کیا جا سکتا ہے ۔
۷۔ تاریخ تمدن جلد ۱ صفحہ ۴۷ ۔
۸۔ تاریخ تمدن جلد ۱ صفحہ ۵۶۔
۹۔ اس جملہ سے خاندانوں کی شدید تباہکاری ، اور شاد ی کی مشترک زندگی ، طلاق کی کثرت ، اور عشق کا رومانس ، اور ایک دوسرے کے ساتھ معاہدے، نا جائز جنسی روابط ، اور افسوس ناک جنسی فساد .... کی طرف اشارہ کیا گیا ہے؛ کہ ان تمام فساد کا سرچشمہ بے پردگی کا مسئلہ ہے ۔ اور شرم و حیا کا فقدان ، معاشرے کے افراد کے درمیان عفت کا نابود ہونا ان تمام مسائل کو معمولی توجہ (یعنی پردے کی رعایت ) کے ذریعے روکا جا سکتا ہے ۔
۱۰۔ رسمی طور پر اجراء کی ضمانت، حکومت کی ذمہ ہوتی ہے، جیسے معاشرے میں سزا کا نظام وغیرہ کہ جہاں کورٹ اور زندان حکومت کی نمایندگی کرتے ہیں ۔
اور غیررسمی اجراء کی ذمہ داری زیادہ ترشہر کے باشندوں یا حکومت کے اداروں اور ثقافتی یا خدماتی مراکز کے ذمہ ہوتی ہے، جیسے عام طریقے سے تشویق دلانا یا معاشرے کے خاص امتیازات، یا کسی کام میںسہولت یا اولویت دینا ، یا کسی کام پر راضی ہونا ، یا کسی کام پر سر زنش کرنا ، یا بعض افراد سے دور رکھنا ، یا معاشرے میں کسی چیز سے محروم رکھنا ، یا کسی چیز سے مذاق بننا ، یا شرمندہ ہونا ، یاکسی خاص چیز میں قبول نہ ہونا ،یا ..وغیرہ


نوشته شده در یکشنبه 20 فروردین 1391 توسط علی پور گھلواں

گھلواں وبلاگ : ۷ اپریل ۲۰۱۲ ء جعفریہ یوتھ علی پور گھلواں کے عہداروں نے سانحہ چلاس پر احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے ایسا لگتا ہے کہ ریاستی ادارے اور غیر ریاستی عناصر، پاکستان بنانے والے اہل تشیع کی نسل کشی کرنے پر مامور ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملت جعفریہ کراچی سے پاراچنار اور کوئٹہ سے گلگت و بلتستان تک، یک جان ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں اور قاتل و مقتول، ظالم و مظلوم کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کا سلسلہ بند کر کے سانحہ چیلاس پر احتجاج کرنے والے گلگت بلتستان کے افراد کو فی الفور رہا کریں وگرنہ ایسا نہ ہو کہ ملت جعفریہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو کر عوام کا یہ سمندر  نااہل حکمرانوں کو اقتدار سمیت بہا کر لے جائے، کیونکہ مکتب کربلا اور لبیک یا حسین ع کی قوت کے سامنے ہر دور کا ظالم سرنگوں ہو جاتا ہے۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومتی ادارے یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور گلگت میں کرفیو سے عام آدمی متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موبائل فون سروس کی معطلی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے، حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر موبائل فون سروس بحال کریں۔



نوشته شده در شنبه 19 فروردین 1391 توسط علی پور گھلواں
(تعداد کل صفحات:7)      1   2   3   4   5   6   7  

مقام معظم رهبری

نویسندگان
Nasr19